زیارت قبور۔ قرآن و حدیث کی روشنی میں

زیارتِ قبور باعثِ اجر و ثواب عمل اور تذکیرِ آخرت کا اہم ذریعہ ہے۔ ائمہِ حدیث و تفسیر کا اس امر پر اتفاق ہے کہ تمام مسلمانوں کو زیارتِ قبور کی اجازت ہے جبکہ بعض فقہاء کے نزدیک حسبِ استطاعت حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے روضۂ انور کی زیارت واحب کے درجہ میں داخل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرونِ اولیٰ سے اب تک اللہ عزوجل اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت کرنے والے اور دین کی تبلیغ و اشاعت کرنے والے طبقات میں سے کسی نے درِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حاضری کو اپنے لیے دنیوی و اخروی سعادت نہ سمجھا ہو۔ پوری تاریخ میں کوئی ایک مثال بھی ایسی نہیں ملتی کہ کوئی شخص متدین ہو، مبلغ ہو اور مسلم ہو لیکن حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں جانے میں عار محسوس کرے۔ بلکہ ہر وہ شخص جسے اللہ تعالیٰ نے دین کی سمجھ بوجھ دی، اسے علم کی دولت سے نوازا، اسے عقلِ سلیم اور قلبِ منیر سے فیضیاب فرمایا ہو اور وہ محبوبِ کبریا کی بارگاہِ اقدس میں جانے سے ہچکچائے۔ تاہم گزشتہ چند دھائیوں سے بعض لوگوں نے دین کی خود ساختہ تشریح و تعبیر کا بیڑا اٹھایا ہے اور وہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قبرِ انور، اولیاء وصالحین اور عامۃ الناس کی قبور کی زیارت کو بدعت، شرک اور ممنوع سمجھتے ہیں۔ حالانکہ زیارتِ قبور کے بارے میں ایسا عقیدہ قرآن وسنت کی تعلیمات کی رو سے صراحتاً غلط اور باطل ہے۔ اس ضمن میں بھی لوگ افراط و تفریط کا شکار ہیں۔ دیگر مستحب اعمال کی طرح زیارتِ قبور کو بھی متنازعہ بنا دیا گیا اور نتیجتاً اس پر بھی بحث و مناظروں کا سلسلہ چل نکلا۔ دونوں طرف سے دلائل کے انبار لگ گئے اور کتب مرتب ہونا شروع ہو گئیں۔

زیارت کا لغوی معنی و مفہوم

عربی لغت میں ہر لفظ کا مادہ کم از کم سہ حرفی ہوتا ہے جس سے باقی الفاظ مشتق اور اخذ ہوتے ہیں۔ عربی لغت کے اعتبار سے زیارت کا معنی دیکھیں تو یہ لفظ زَارَ، يَزُوْرُ، زَورًا سے بنا ہے۔ جس کے اندر ملنے، دیکھنے، نمایاں ہونے، رغبت اور جھکاؤ کے معانی پائے جاتے ہیں۔ جب کوئی شخص کسی ایک جگہ سے دوسری جگہ کسی کی ملاقات کے لئے جائے تو اس میں اس شخص یا مقام کی طرف رغبت، رحجان اور جھکاؤ بھی پایا جاتا ہے اور بوقت ملاقات رؤیت بھی ہوتی ہے اس لئے اس عمل کو زیارت بھی کہا جاتا ہے۔ ائمہِ لغت نے زَور کے درج ذیل معانی بیان کئے ہیں :

1. زَارَ، يَزُوْرُ، زَوْرًا، أي لَقِيَهُ بِزَوْرِهِ، أوْ قَصَدَ زَوْرَهُ أي وِجْهَتَهُ.

’’زَار َیزُوْرُ زَوْرًا کا معنی ہے : اس نے فلاں شخص سے ملاقات کی یا فلاں کی طرف جانے کا ارادہ کیا۔‘‘

زبيدي، تاج العروس، 6 : 477

2. زَارَ يَزُوْرُ زِيَارَة وَ زَوْرًا وَ زُوَارًا و زُوَارَةً وَمَزَارًا أتاهُ بِقَصْدِ اللقاء وُهُو مأخوذ من الزَوْرِ للصدر أو المَيْل.

’’زیارت کا معنی ہے کسی سے ملنے کے لئے آنا۔ یہ لفظ زَور سے نکلا ہے جس کا معنی ہے سینہ کی ہڈیوں کی ملنے کی جگہ یا میلان، رحجان اور رغبت۔‘‘

بطرس بستانی، محيط المحيط : 384

3۔ ’’محیط المحیط (ص : 384)‘‘ میں زیارت کا معنی یوں بھی لکھا ہے :

الزِّيارة مصدر و إسم بمعني الذهاب إلي مکان للاجتماع بأهله کزيارة الأحبة وللتبرّک بما فيه من الآثار کزيارة الأماکن.

’’لفظ زیارۃ مصدر بھی ہے اور اسم بھی۔ جس کا معنی کسی جگہ اہالیان سے ملنے کے لئے جانا جیسے دوست احباب کی ملاقات یا دوسرا معنی کسی جگہ موجود آثار سے حصول برکت کے لئے جانا جیسے مقاماتِ مقدسہ کی زیارت کے لئے جانا۔‘‘

4. لغت کی معروف کتاب ’’المصباح المنیر‘‘ میں لکھا ہے :

والزِّيارة في العرف قصد المزور! کرامًا له واستئناسا به.

’’عرفِ عام میں زیارت سے مراد کسی شخص کے ادب و احترام اور اس سے محبت کی بناء پر اس کی ملاقات کے لئے جانا۔‘‘

فيومي، المصباح المنير في غريب شرح الکبير للرافعي، 1 : 260

اسی سے مَزَار ہے۔ جس کا معنی ہے وہ جگہ جس کی زیارت کی جائے۔ ابنِ منظور افریقی لکھتے ہیں :

وَالمَزَارُ موضع الزيارة.

’’مزار سے مراد زیارت کرنے کا مقام ہے۔‘‘

ابن منظور إفريقي، لسان العرب، 4 : 333

اسی سے زَائِر بھی ہے جس کا معنی ہے : زیارت کے لئے جانے والا شخص یا ملاقاتی۔

زیارت کا شرعی معنی و مفہوم

قرآن و حدیث کی تعلیمات سے پتہ چلتا ہے کہ بعض ذواتِ عالیہ اور مقاماتِ مطہرہ کو اللہ تعالیٰ نے خصوصی نعمت ورحمت سے نوازا ہے اور اِن کو دیگر مخلوق پر ترجیح دی ہے۔ ان بابرکت ذوات اور اماکنِ مقدسہ پر حاضری کیلئے جانا مشروع، مسنون، مندوب اور مستحب عمل ہے، عرفِ عام میں اسی کو ’’زیارت‘‘ کہا جاتا ہے۔

زیارت کی اَقسام

دینِ اسلام میں زیارت کا اس قدر جامع تصور ہے کہ ہر واجب الاحترام شخصیت، متبرک چیز اور مقام کو صرف اور صرف دیکھنا ہی عبادت کا درجہ رکھتی ہے۔

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :

النظر إلي الوالد عبادة، والنظر إلي الکعبة عبادة، والنظر في المصحف عبادة، والنظر إلي أخيک حباً له في اﷲ عبادة.

’’والد کی طرف دیکھنا عبادت ہے، کعبہ کی طرف دیکھنا عبادت ہے، قرآن حکیم کی طرف دیکھنا عبادت ہے اور اپنے بھائی کی طرف رضائے الٰہی کے لئے محبت کی نگاہ سے دیکھنا بھی عبادت ہے۔‘‘

بيهقي، شعب الإبمان، 7 : 187، رقم : 8760

مذکورہ حدیثِ مبارکہ میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جن کی طرف دیکھنے کو عبادت فرمایا یہ دراصل زیارت کی مختلف اقسام ہیں۔ ذیل میں ہم اس حدیث سمیت دیگر نصوص کی روشنی میں زیارت کی اقسام کا ذکر کر رہے ہیں جن میں سرِ فہرست زیارتِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے۔

زیارتِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیاتِ مبارکہ میں بحالتِ ایمان آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت کرنا افضل ترین عمل تھا۔ ایمان کی حالت میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت کرنے والے خوش نصیب لوگوں کو ہی مرتبہ صحابیت پر فائز ہونے کا شرف نصیب ہوا۔ یہ اتنا عظیم شرف اور امتیاز ہے جس پر قیامت تک کوئی اور شخص فائز نہیں ہو سکتا بے شک وہ پوری زندگی عبادت و ریاضت میں کیوں نہ صرف کر دے۔ ایسے خوش نصیب شخص کے بارے میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :

لَا تَمُسُّ النَّارُ مُسْلِمًا رَآنِي أوْ رَأَي مَنْ رَآنِي.

’’اُس مسلمان کو آگ نہیں چھوئے گی جس نے مجھے دیکھا (یعنی صحابی) یا مجھے دیکھنے والے کو دیکھا (یعنی تابعی)۔‘‘

(1) ترمذي، الجامع الصحيح، کتاب المناقب، باب ما جاء في فضل من رأي النبي صلي الله عليه وآله وسلم وصحبه، 5 : 694، رقم : 3858

اسی طرح بعد ازوصال زیارتِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شرعی حیثیت پر بھی اُمتِ مسلمہ کا اِجماع ہے۔ بعض ائمہ احناف اور مالکیہ کے علاوہ دیگر اہلِ سنت وجماعت کے مکاتب و مذاہب بھی اسے بعض حالات میں واجب قرار دیتے ہیں۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے واضح الفاظ میں اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں حاضری کا حکم فرمایا ہے۔ ارشادِ الٰہی ہے :

وَلَوْ أَنَّهُمْ إِذ ظَّلَمُواْ أَنفُسَهُمْ جَآؤُوكَ فَاسْتَغْفَرُواْ اللّهَ وَاسْتَغْفَرَ لَهُمُ الرَّسُولُ لَوَجَدُواْ اللّهَ تَوَّابًا رَّحِيمًاO

’’اور (اے حبیب!) اگر وہ لوگ جب اپنی جانوں پر ظلم کر بیٹھے تھے آپ کی خدمت میں حاضر ہوجاتے اور اللہ سے معافی مانگتے اور رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی ان کے لیے مغفرت طلب کرتے تو وہ (اِس وسیلہ اور شفاعت کی بناء پر) ضرور اللہ کو توبہ قبول فرمانے والا نہایت مہربان پاتےo‘‘

النساء، 4 : 64

درجِ بالا آیتِ مبارکہ سے یہ نہ سمجھا جائے کہ اس کا اطلاق صرف حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیاتِ مبارکہ تک تھا بلکہ جس طرح قرآن کے تمام احکام قیامت تک کے لئے ہیں اسی طرح اس آیتِ مبارکہ کا اطلاق بھی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذاتِ مطہرہ پر قیامت تک کے لئے ہوگا۔

حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے روضۂ اَطہر کی زیارت کے حوالے سے اِرشاد فرمایا، جسے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اﷲ عنہما نے روایت کیا ہے :

مَنْ زَارَ قَبْرِي، وَجَبَتْ لَهُ شَفَاعَتِی.

’’جس نے میری قبر کی زیارت کی اُس کے لئے میری شفاعت واجب ہو گئی۔‘‘

1. دارقطني، السنن 2 : 278
2. بيهقي، شعب الإبمان، 3 : 490، رقم : 4159، 4160
3. حکيم ترمذي، نوادر الأصول، 2 : 67


زیارتِ اولیاء و صالحین

اﷲتعالیٰ کے مقرب اور محبوب بندوں کی زیارت و ملاقات کے لئے جانا، عند اﷲ محبوب عمل ہے۔ اللہ گ اور حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے فرامین سے ثابت ہے کہ صالحین کی زیارت اور ملاقات کو جانا چاہیے۔

1. قرآن مجید میں اللہ گ نے سورۃ الکھف(1) میں تفصیلاً بیان کیا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو حضرت حضر علیہ السلام کی زیارت اور اُن کی صحبت سے مستفید ہونے کے لئے بھیجا گیا تھا۔ حضرت حضر علیہ السلام کا شمار اللہ جل جلالہ کے صالحین اور مقرب بندوں میں ہوتا ہے جس سبب سے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اُن کے علم سے استفادہ کے لئے خصوصی طور پر بھیجا گیا۔

الکهف، 18 : 60 - 82

اولیاء وصالحین کی زیارت کرنا مسنون عمل ہے۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنتِ طیبہ اور فرامینِ مبارکہ سے بھی اولیاء، صالحین، کامل مؤمنین اور متقین کی زیارت کو جانا ثابت ہے۔

2. اﷲ سبحانہ وتعالیٰ کی رضا و خوشنودی کی خاطر کسی کی زیارت و ملاقات محبتِ الٰہی کا باعث ہے۔ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے : حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک حدیثِ قدسی بیان کی کہ اﷲتعالیٰ فرماتا ہے :

وَجَبَتْ مَحَبَّتِي لِلْمُتَحَابِّيْنَ فِيَّ وَلِلمُتَجَالِسِيْنَ فِيَّ وَلِلْمُتَزَاوِرِيْنَ فِيَّ وَلِلْمُتَبَاذِلِيْنَ فِيَّ.

’’میری محبت ان لوگوں کے لئے واجب ہوگئی جو صرف میرے لئے ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں، میری خاطر ایک دوسرے کے پاس بیٹھتے ہیں، میری رضا کے لئے ایک دوسرے کی زیارت و ملاقات کرتے ہیں اور میری رضا کے لئے ایک دوسرے پر خرچ کرتے ہیں۔‘‘

1. مالک، الموطأ، 2 : 953، رقم : 1711
2. أحمد بن حنبل، المسند، 5 : 233، رقم : 22083

زیارتِ اَماکنِ مقدسہ

شریعتِ اسلامیہ میں مقدس مقامات کی زیارت کو جانے کی بھی اجازت ہے۔ ان بابرکت مقامات میں روئے زمین کی تمام مساجد، خصوصاً مسجدِ حرام، مسجدِ نبوی، مسجدِ اقصیٰ، مسجدِ قباء اور بعض مقدس اماکن مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ، فلسطین، شام اور یمن شامل ہیں۔ علاوہ ازیں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، دیگر انبیاءِ کرام اور اولیاءِ عظام کے مقاماتِ ولادت اور وصال کی زیارت کرنا بھی از روئے شرع جائز ہے۔

کسی عمل کا شرک ہونے کے لئے لازم ہے کہ وہ توحید کے معروف اقسام میں سے کسی کے مقابلے میں آئے ورنہ ہر عمل شرک نہیں ہوسکتا۔ بعض لوگ مزارات انبیاء علیہم السلام اور اولیاء کرام کی حاضری و زیارت کو خلافِ توحید سمجھتے ہیں اور اسے شرک گردانتے ہیں حالانکہ کسی مزار کی زیارت کرنا اس بات کا صریح اعلان ہے کہ ہم کسی ایسی ہستی کی قبر کی زیارت کر رہے ہیں جو اس دنیا میں زندہ نہ رہا۔ اﷲ عزوجل کی ذات موت سے پاک ہے۔ وہ حيّ و قیّوم ہے۔ وہ ازل سے ہے ابد تک رہے گا۔ اس ذاتِ قادر و قیوم کے بارے میں موت کا تصور بھی ممکن نہیں۔

اِرشادِ باری تعالیٰ ہے :

اﷲُ لَآ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الْحَيُ الْقَيُوْمُ.

’’اﷲ، اس کے سوا کوئی لائقِ عبادت نہیں (وہ) ہمیشہ زندہ رہنے والا ہے (سارے عالم کو اپنی تدبیر سے) قائم رکھنے والا ہے۔‘‘

آل عمران، 3 : 2

اﷲ سبحانہ وتعالیٰ کی ذات ہی اس لائق ہے کہ ہمیشہ زندہ رہنا اس کی خاص صفت ہے۔ مخلوق میں سے کوئی اس صفت سے متصف نہیں ہوسکتا۔ اگر کوئی کسی اور کے لئے اس طرح کی صفات کا اثبات کرے گا تو یقیناً شرک کا مرتکب ہو گا۔ فوت شدہ شخص اپنے تقویٰ طہارت اور للہیت کی وجہ سے صالح بزرگ تو ہوسکتا ہے لیکن خدا اور معبود نہیں۔

مسلمانوں کا اپنے فوت شدگان کی قبروں کی زیارت کے لئے جانا وہاں ان کے لئے دعا اور فاتحہ کرنا دراصل اس چیز کا اقرار ہے کہ یہ خدا نہیں تھے۔ اسی طرح سیدالعالمین حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ عالیہ کی حاضری بھی اس چیز کا ثبوت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ کے محبوب نبی ہیں، اس کے شریک نہیں۔

صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کا معمول زیارتِ روضۂ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

حضرت کعب الاحبار کے قبولِ اسلام کے بعد حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے انہیں کہا :

هل لک أن تسيرمعي إلي المدينة فنزور قبر النبي صلي الله عليه وآله وسلم وتتمتع بزيارته، فقلت نعم يا أمير المؤمنين.

’’کیا آپ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے روضۂ اقدس کی زیارت اور فیوض و برکات حاصل کرنے کے لیے میرے ساتھ مدینہ منورہ چلیں گے؟‘‘ تو انہوں نے کہا : ’’جی! امیر المؤمنین۔‘‘

پھر جب حضرت کعب الاحبار اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ آئے تو سب سے پہلے بارگاہِ سرورِ کونین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں حاضری دی اور سلام عرض کیا، پھر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے مدفن مبارک پر کھڑے ہوکر اُن کی خدمت میں سلام عرض کیا اور دو رکعت نماز ادا فرمائی۔

1. واقدي، فتوح الشام، 1 : 244
2. هيتمي، الجوهر المنظم : 27. 28

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا کا معمول تھا کہ آپ اکثر روضہ مبارک پر حاضر ہوا کرتی تھیں۔ وہ فرماتی ہیں :

کُنْتُ أَدْخُلُ بَيْتِي الَّذِي دُفِنَ فِيْهِ رَسُوْلُ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم وَ أَبِي، فَاَضَعُ ثَوْبِي فَأَقُوْلُ إنَّمَا هُوَ زَوْجِي وَأَبِي، فَلَمَّا دُفِنَ عُمَرُ مَعَهُمْ فَوَ اﷲِ مَا دَخَلْتُ اِلَّا وَ أَنَا مَشْدُوْدَة عَلَيَ ثِيَابِي حَيَائً مِنْ عُمَرَ.

’’میں اس مکان میں جہاں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور میرے والد گرامی مدفون ہیں جب داخل ہوتی تو یہ خیال کرکے اپنی چادر (جسے بطور برقع اوڑھتی وہ) اتار دیتی کہ یہ میرے شوہرِ نامدار اور والدِ گرامی ہی تو ہیں لیکن جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو ان کے ساتھ دفن کر دیا گیا تو اللہ کی قسم میں عمر رضی اللہ عنہ سے حیاء کی وجہ سے بغیر کپڑا لپیٹے کبھی داخل نہ ہوئی۔‘‘

1. أحمد بن حنبل، المسند، 6 : 202
2. حاکم، المستدرک، 3 : 61، رقم : 4402
3. مقريزي، اِمتاعُ الاسماع، 14 : 607


اس حدیثِ مبارکہ سے معلوم ہوا کہ حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہا کا روضۂ اقدس پر حاضری کا ہمیشہ معمول تھا۔ حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہا نے اہلِ مدینہ کو قحط سالی کے خاتمے کے لئے قبرِ انور پر حاضر ہو کر توسل کرنے کی تلقین فرمائی۔ امام دارِمی صحیح اِسناد کے ساتھ روایت کرتے ہیں :

قُحِطَ أهل الْمَدِيْنَةِ قَحْطًا شَدِيْدًا فَشَکَوْا إِلَي عائشۃ ، فَقَالَتْ : انْظُرُوْا قَبْرَ النَّبِيِّ صلي الله عليه وآله وسلم فَاجْعَلُوْا مِنْهُ کِوًي إلَي السَّمَاءِ، حَتَّي لَا يَکُوْنَ بَيْنَهُ وَ بَيْنَ السَّمَاءِ سَقْفٌ، قَالَ : فَفَعَلُوْا فَمُطِرْنَا مَطَرًا حَتَّي نَبَتَ الْعُشْبُ، وَسَمِنَتِ الْاِبِلُ حَتَّي تَفَتَّقَتْ مِنَ الشَّحْمِ، فَسُمِّيَ ’’عَامَ الْفَتْقِ‘‘.

’’ایک مرتبہ مدینہ کے لوگ سخت قحط میں مبتلا ہوگئے تو انہوں نے حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہا سے (اپنی دِگرگوں حالت کی) شکایت کی۔ آپ رضی اﷲ عنہا نے فرمایا : حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قبرِ مبارک کے پاس جاؤ اور اس سے ایک روشندان آسمان کی طرف کھولو تاکہ قبرِ انور اور آسمان کے درمیان کوئی پردہ حائل نہ رہے۔ راوی کہتے ہیں کہ ایسا کرنے کی دیر تھی کہ اتنی زور دار بارش ہوئی جس کی وجہ سے خوب سبزہ اُگ آیا اور اُونٹ اتنے موٹے ہوگئے کہ (محسوس ہوتا تھا) جیسے وہ چربی سے پھٹ پڑیں گے۔ پس اُس سال کا نام ہی ’’عامُ الفتق (سبزہ و کشادگی کا سال)‘‘ رکھ دیا گیا۔‘‘

1. دارمي، السنن، 1 : 56، رقم : 92
2. ابن جوزي، الوفا بأحوال المصطفيٰ : 817. 818، رقم : 1534
3. سبکي، شفاء السقام في زيارة خير الأنام : 128

ثابت ہوا کہ اُم المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اﷲ عنہا نے اہلِ مدینہ کو رحمتیں اور برکتیں حاصل کرنے کے لیے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قبرِ مبارک کو وسیلہ بنانے کی ہدایت فرمائی، جس سے اُن پر طاری شدید قحط ختم ہو گیا، اور موسلا دھار بارش نے ہر طرف بہار کا سماں پیدا کر دیا۔ جہاں انسانوں کو غذا ملی وہاں جانوروں کو چارا ملا، اِس بارش نے اہلِ مدینہ کو اتنا پر بہار اور خوشحال بنا دیا کہ انہوں نے اس پورے سال کو ’عام الفتق (سبزہ اور کشادگی کا سال)‘ کے نام سے یاد کیا۔

بعض لوگوں نے اس رِوایت پر اعتراضات کئے ہیں جن میں سے ایک یہ ہے کہ اس کی سند کمزور ہے لہٰذا یہ روایت بطورِ دلیل پیش نہیں کی جا سکتی لیکن مستند علماء نے اِسے قبول کیا ہے اور بہت سی ایسی اسناد سے استشہاد کیا ہے جو اس جیسی ہیں یا اس سے کم مضبوط ہیں۔ لہٰذا اس روایت کو بطورِ دلیل لیا جائے گا کیونکہ امام نسائی کا مسلک یہ ہے کہ جب تک تمام محدّثین ایک راوی کی حدیث کے ترک پر متفق نہ ہوں، اس کی حدیث ترک نہ کی جائے۔

(1) عسقلاني، شرح نخبة الفکر في مصطلح أهل الأثر :

233ایک اور اعتراض اس روایت پر یہ کیا جاتا ہے کہ یہ موقوف ہے یعنی صرف صحابیہ تک پہنچتی ہے، اور یہ حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہا کا قول ہے، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان نہیں ہے۔ اس لئے اگر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ تک اس کی اسناد صحیح بھی ہوں تو یہ دلیل نہیں بن سکتی کیونکہ یہ ذاتی رائے پر مبنی ہے اور بعض اوقات صحابہ کی ذاتی رائے صحیح ہوتی ہے اور بعض اوقات اس میں صحت کا معیار کمزور بھی ہوتا ہے، لہٰذا ہم اس پر عمل کرنے کے پابند نہیں۔

اس بے بنیاد اعتراض کا سادہ لفظوں میں جواب یہ ہے کہ نہ صرف اس روایت کی اسناد صحیح اور مستند ہیں بلکہ کسی بھی صحابی نے نہ تو حضرت عائشۃ رضی اﷲ عنہا کے تجویز کردہ عمل پر اعتراض کیا اور نہ ہی ایسا کوئی اعتراض مروی ہے جس طرح حضرت مالک دار رضی اللہ عنہ کی بیان کردہ روایت میں اس آدمی پر کوئی اعتراض نہیں کیا گیا جو قبرِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر آ کر بارش کے لیے دعا کرتا ہے۔ یہ روایتیں صحابہ کا اجماع ظاہر کرتی ہیں اور ایسا اجماع بہر طور مقبول ہوتا ہے۔ کوئی شخص اس عمل کوناجائز یا بدعت نہیں کہہ سکتا کہ جسے صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے سکوت نے جائز یا مستحب قرار دیا ہو۔

صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کی پیروی کے لزوم کے بارے میں امام شافعی فرماتے ہیں :

رأيهم لنا خير من رأينا لأنفسنا.

’’ہمارے لیے ان کی رائے ہمارے بارے میں ہماری اپنی رائے سے بہتر ہے۔‘‘

ابن قيم، أعلام الموقعين عن ربّ العالمين، 2 : 186

ابنِ تیمیہ نے اس روایت پر اعتراض کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ جھوٹ ہے اور حضرت عائشۃ رضی اﷲ عنہا کی پوری زندگی میں روضۂ اقدس کی چھت میں اس طرح کا کوئی سوراخ موجود نہیں تھا۔ یہ اعتراض کمزور ہے کیونکہ امام دارمی اور ان کے بعد آنے والے اَئمہ و علماء اس طرح کی تفصیل متاخرین سے زیادہ بہتر جانتے تھے۔ مثال کے طور پر مدنی محدّث و مؤرخ امام علی بن احمد سمہودی نے علامہ ابنِ تیمیہ کے اعتراض کا ردّ اور امام دارمی کی تصدیق کرتے ہوئے ’’وفاء الوفاء (2 : 560)‘‘ میں لکھا ہے :

’’زین المراغی نے کہا : ’جان لیجئے کہ مدینہ کے لوگوں کی آج کے دن تک یہ سنت ہے کہ وہ قحط کے زمانہ میں روضۂ رسول کے گنبد کی تہہ میں قبلہ رُخ ایک کھڑکی کھولتے اگرچہ قبر مبارک اور آسمان کے درمیان چھت حائل رہتی۔ میں کہتا ہوں کہ ہمارے دور میں بھی مقصورہ شریف، جس نے روضہ مبارک کو گھیر رکھا ہے، کا باب المواجہ یعنی چہرۂ اقدس کی جانب کھلنے والا دروازہ کھول دیا جاتا ہے اور لوگ وہاں (دعا کے لیے) جمع ہوتے ہیں۔‘‘

سمهودي، وفاء الوفاء، 2 : 560

حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قبرِ انور کے پاس جا کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے توسُّل سے دعا کرنے کا معمول عثمانی ترکوں کے زمانے یعنی بیسویں صدی کے اوائل دور تک رائج رہا، وہ یوں کہ کہ جب قحط ہوتا اور بارش نہ ہوتی تو اہلِ مدینہ کسی کم عمر سید زادہ کو وضو کروا کر اوپر چڑھاتے اور وہ بچہ اس رسی کو کھینچتا جوقبرِ انور کے اوپر سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا کے فرمان کے مطابق سوراخ کے ڈھکنے کو بند کرنے کے لئے لٹکائی ہوئی تھی۔ اس طرح جب قبرِ انور اور آسمان کے درمیان کوئی پردہ نہ رہتا تو بارانِ رحمت کا نزول ہوتا۔

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اﷲ عنہما کے آزاد کردہ غلام نافع رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ابنِ عمر رضی اللہ عنہ کا معمول تھا کہ جب بھی سفر سے واپس لوٹتے تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے روضۂ اقدس پر حاضری دیتے اور عرض کرتے :

السّلام عليک يا رسول اﷲ! السّلام عليک يا أبا بکر! السّلام عليک يا أبتاه!

’’اے اللہ کے (پیارے) رسول! آپ پر سلامتی ہو، اے ابوبکر! آپ پر سلامتی ہو، اے ابا جان! آپ پر سلامتی ہو۔‘‘

1. عبدالرزاق، المصنف، 3 : 576، رقم : 6724
2. ابن أبي شيبة، المصنف، 3 : 28، رقم : 11793
3. بيهقي، السنن الکبريٰ، 5 : 245، رقم : 10051

حضرت عبداﷲ بن دینار بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ عنہما کو دیکھا کہ جب سفر سے واپس لوٹتے تو مسجدِ (نبوی) میں داخل ہوتے اور یوں سلام عرض کرتے :

السّلام عليک يا رسول اﷲ! السّلام علي أبي بکر! السّلام علي أبي.

’’اے اللہ کے (پیارے) رسول! آپ پر سلام ہو، ابوبکر پر سلام ہو (اور) میرے والد پر بھی سلام ہو۔‘‘

اس کے بعد حضرت عبداﷲ بن عمر دو رکعات نماز ادا فرماتے۔

1. ابن إسحاق أزدي، فضل الصّلاة علي النبي صلي الله عليه وآله وسلم : 90. 91، رقم : 97 - 98

2. ابن حجر عسقلانی نے ’’المطالب العالیۃ (1 : 371، رقم : 1250)‘‘ میں عمر بن محمد کی اپنے والد سے نقل کردہ روایت بیان کی ہے اور اس کی اسناد صحیح ہیں۔

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :

فَزُوْرُوا القُبُوْرَ فَإِنَّهَا تُذَکِّرُ الْمَوْتَ.

’’تم قبروں کی زیارت کیا کرو کیونکہ یہ موت کی یاد دلاتی ہے۔‘‘

1. مسلم، الصحيح، کتاب الجنائز، باب استئذان النبي صلي الله عليه وآله وسلم ربه عزوجل في زيارة قبر أمه، 2 : 671، رقم : 976
2. حاکم، المستدرک، 1 : 531، رقم : 1390
3. أحمد بن حنبل، المسند، 2 : 441، رقم : 9686

2۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :

نَهَيْتُکُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُوْرِ فَزُوْرُوْهَا فَإِنَّهَا تُذَکِّرُکُمُ الْمَوْتَ.

’’میں نے تمہیں زیارتِ قبور سے منع کیا تھا اب تم اُن کی زیارت کیا کرو کیونکہ وہ تمہیں موت کی یاد دلاتی ہے۔‘‘

حاکم، المستدرک، 1 : 531، رقم : 1388

حضرت عبد اﷲ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :

کُنْتُ نَهَيْتُکُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُوْرِ، فَزُوْرُوْهَا فَإِنَّهَا تُزَهِّدُ فِي الدُّنْيَا وَتُذَکِّرُ الاٰخِرَةَ.

’’میں نے تمہیں زیارتِ قبور سے منع کیا تھا اب تم ان کی زیارت کیا کرو کیونکہ یہ دنیا سے بے رغبت کرتی ہے اور آخرت کی یاد دلاتی ہے۔‘‘

1. ابن ماجه، السنن، کتاب الجنائز، باب ما جاء في زيارة القبور، 1 : 501، رقم : 1571
2. ابن حبان، الصحيح، 3 : 261، رقم : 981
3. حاکم، المستدرک، 1 : 531، رقم : 1387

ائمہِ احناف میں سے علامہ بدر الدین عینی (شارح صحیح بخاری) کے زیارتِ قبور کے حوالے سے چند اقتباسات ملاحظہ کریں :

وقال ابن حبيب لا بأس بزيارة القبور، والجلوس إليها، والسلام عليها عند المرور بها. وقد فعل ذلک رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم. وسئل مالک عن زيارة القبور؟ فقال : قد کان نهي عنه ثم أذن فيه. فلو فعل ذلک إنسان و لم يقل إلا خيراً لم أر بذلک بأسا.

’’ابنِ حبیب نے کہا ہے کہ زیارتِ قبور کرنے، ان کے پاس بیٹھنے اور قبروں کے پاس سے گزرتے ہوئے ان پر سلام کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ بے شک حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسی طرح کیا ہے۔ امام مالک سے زیارتِ قبور کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا : بے شک اس عمل سے پہلے منع کیا گیا تھا پھر اس کی اجازت ہوگئی اگر کوئی انسان یہ عمل کرے اور خیر کے سوا کچھ نہ کہے تو میں اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتا۔‘‘

عينی، عمدة القاری، 8 : 70

وفي التوضيح أيضاً : والأمة مجمعة علي زيارة قبر نبيّنا صلي الله عليه وآله وسلم، وأبي بکر، وعمر رضي اﷲ عنهما. وکان ابن عمر إذا قدم من سفر أتي قبره المکرم، فقال : السّلام عليک يا رسول اﷲ! السّلام عليک يا أبا بکر! السّلام عليک يا أبتاه.

’’توضیح میں یہ بھی ہے کہ تمام امت کا حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قبرِ انور اسی طرح حضرت ابو بکر صدیق اور حضرت عمر رضی اﷲ عنہما کی قبروں کی زیارت کرنے پراتفاق ہے۔ حضرت عبد اﷲ بن عمر رضی اللہ عنہ کا معمول تھا کہ جب وہ شہر سے واپس لوٹتے تو سیدھے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قبرِ انور پر حاضر ہوتے اور کہتے یا رسول اﷲ! آپ پر سلام ہو، اے ابو بکر! آپ پر سلام ہو، اے ابا جان! (حضرت عمر) آپ پر سلام ہو۔‘‘

عيني، عمدة القاري، 8 : 70

ومعني النهي عن زيارة القبور إنما کان في أوّل الإسلام عند قربهم بعبادة الأوثان، واتّخاذ القبور مساجد، فلما استحکم الإسلام، وقوي في قلوب الناس، وأمنت عبادة القبور، والصّلاة إليها، نسخ النهي عن زيارتها لأنها تذکرّ الآخرة وتزهّد في الدّنيا.

’’زیارت قبور سے منع کرنے کا معنی یہ ہے کہ ابتدائے اسلام میں لوگوں کا بتوں کی عبادت اور قبروں کو سجدہ گاہ بنانے کے زمانہ سے قریب ہونے کی وجہ سے یہ ممانعت تھی، لیکن جب اسلام مستحکم ہوا اور لوگوں کے دلوں میں راسخ اور مضبوط ہوگیا اور قبروں کی عبادت اور ان کے لئے نماز کا خوف ختم ہوگیا تو پھر زیارتِ قبور کی ممانعت منسوخ ہوگئی کیونکہ دراصل زیارتِ قبور آخرت کی یاد دلاتی ہے اور دنیا سے بے رغبت کرتی ہے۔‘‘

عيني، عمدة القاري، 8 : 70

خلاصۂ بحث

درجِ بالا قرآن وسنت پر مشتمل تمام تحقیقی بحث کو مدّنظر رکھ کر یہ کہا جا سکتا ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے روضۂ انور، اولیاء وصالحین کی زندگی میں اور بعد از وصال ان کے مزارات پر جائز طریقوں کے ساتھ حاضری دینا قطعاً شرک نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی کا باعث ہے۔
 

This free website was made using Yola.

No HTML skills required. Build your website in minutes.

Go to www.yola.com and sign up today!

Make a free website with Yola